آخرت کا عذاب کیسے لوگوں کے لیے ہے؟

 

آخرت کا عذاب کیسے لوگوں کے لیے ہے؟

تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ285

سورہ صٰفّٰت آیات 33تا39

فَاِنَّهُمْ يَوْمَىِٕذٍ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ۰۰۳۳اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِيْنَ۰۰۳۴اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِيْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ يَسْتَكْبِرُوْنَ۠ۙ۰۰۳۵وَ يَقُوْلُوْنَ اَىِٕنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍؕ۰۰۳۶بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِيْنَ۰۰۳۷اِنَّكُمْ لَذَآىِٕقُوا الْعَذَابِ الْاَلِيْمِۚ۰۰۳۸وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ۰۰۳۹

اِس طرح وہ سب اُس روز عذاب میں مشترک ہوں گے۔  ہم مجرموں کے ساتھ یہی کچھ کیا کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا” اللہ کے سوا کوئی معبُود بر حق نہیں ہے“ تو یہ گھمنڈ میں آجاتے تھے اور کہتے تھے” کیا ہم ایک شاعرِ مجنون کی خاطر اپنے معبُودوں کو چھوڑ دیں؟“ حالانکہ وہ حق لے کر آیا تھا اور اس نے رسُولوں کی تصدیق کی تھی۔ (اب ان سے کہا جائے گا کہ)تم لازماً دردناک سزا کا مزا چکھنے والے ہو۔ اور تمہیں جو بدلہ بھی دیا جارہا ہے اُنہی اعمال کا دیا جا رہا ہے جو تم کرتے رہے ہو۔

اِس طرح وہ سب اُس روز عذاب میں مشترک ہوں گے

سورة الصفت حاشیہ نمبر۲۰

یعنی پیرو بھی اور پیشوا بھی، گمراہ کرنے والے بھی اور گمراہ ہونے والے بھی، ایک ہی عذاب میں شریک ہوں گے ۔ نہ پیروؤں کا  یہ عذر مسموع ہو گا کہ وہ خود گمراہ نہیں ہوئے تھے بلکہ کیا گیا تھا۔ اور نہ پیشواؤں کی اِس معذرت کو قبول کیا جائے گا کہ گمراہ ہونے والے خود ہی راہ راست کے طالب نہ تھے ۔

آخرت کا عذاب کیسے لوگوں کے لیے ہے؟

تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ305

سورہ صٰفّٰت آیت 127

فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ۰۰۱۲۷

مگر انہوں نے اسے جھُٹلا دیا، سو اب یقیناً وہ سزا کے لیے پیش کیے جانے والے ہیں

آخرت کا عذاب کیسے لوگوں کے لیے ہے؟

تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ548

سورہ زخرف آیت 65

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَيْنِهِمْ١ۚ فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ يَوْمٍ اَلِيْمٍ۰۰۶۵

مگر( اُس کی اِس صاف تعلیم کے باوجود)گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا، پس تباہی ہے اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے ظلم کیا ایک دردناک دن کے عذاب سے۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں